اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کے شعبۂ تعلقاتِ عامہ نے آپریشن "نصر 2" کے سلسلے میں جاری اپنے 49ویں بیان میں کہا ہے کہ اگر امریکہ کی جانب سے حملے اور کارروائیاں جاری رہیں تو ایران کی حکمت عملی "قصاص" پر مبنی ہوگی۔
بیان میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ امریکی فوج کے متعدد افسران اور اہلکار، حملوں کے خوف سے اپنے فوجی اڈے چھوڑ کر شہری علاقوں میں واقع عمارتوں کو اپنے عارضی اور خفیہ مراکز کے طور پر استعمال کر رہے ہیں۔
سپاہ پاسداران نے ان ممالک کے عوام کو، جہاں امریکی فوجی تعینات ہیں، خبردار کیا کہ وہ امریکی فوجیوں کے مبینہ خفیہ رہائشی مقامات سے فوری طور پر کم از کم 500 میٹر کا فاصلہ اختیار کریں تاکہ ممکنہ خطرات سے محفوظ رہ سکیں۔
بیان میں امریکہ پر یہ بھی الزام عائد کیا گیا کہ اس نے چند ماہ قبل ایران کے ایک مذہبی و سیاسی رہنما اور متعدد بچوں کو نشانہ بنا کر جنگ کا آغاز کیا، بعد ازاں جنگ بندی سے متعلق مفاہمت کی خلاف ورزی کرتے ہوئے دوبارہ فوجی کارروائیاں شروع کر دیں۔
سپاہ پاسداران نے مزید دعویٰ کیا کہ حالیہ دنوں میں امریکہ نے پلوں، ماہی گیری کے گھاٹوں، کشتیوں، سڑکوں اور ریلوے تنصیبات سمیت شہری اہداف کو نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں عام شہری اور اربعین زائرین بھی متاثر ہوئے۔
بیان کے اختتام پر کہا گیا کہ اگر ان کارروائیوں کا سلسلہ جاری رہا تو ایران ذمہ دار افراد کے خلاف جوابی کارروائی کرے گا، اسی لیے عوام کو احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی تنبیہ کی گئی ہے۔
آپ کا تبصرہ